Header Ads

گجرات کی تاریخ

تاریخ

گجرات ایک قدیمی شہر ہے۔ ایک برطانوی تاریخ دان کے مطابق گجرات شہر 460 قبل مسیح میں راجہ بچن پال نے دریافت کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسکندر اعظم کی فوج کو ریاست کے راجہ پورس سے دریائے جہلم کے کنارے زبردست مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کے محکمانہ نظام کی بنیاد 1900میں برطانوی سامراج نے ڈالی، جو علاقہ کے چوہدری دسوندھی خان، جو محلہ دسوندھی پورہ کے رہنے والے تھے، کی مدد سے شروع کی گئی۔ مغلیہ دور میں، مغل بادشاہوں کا کشمیر جانے کا راستہ گجرات ہی تھا۔ شاہ جہانگیر کا انتقال کشمیر سے واپسی پر راستے میں ہی ہو گیا، ریاست میں بدامنی سے بچنے کیلئے انتقال کی خبر کو چھپایا گیا اور اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکال کر گجرات میں ہی دفنا دی گئی، جہاں اب ہر سال شاہ جہانگیر کے نام سے ایک میلہ لگتا ہے۔ انگریزوں اور سکھوں کے درمیان دو بڑی لڑائیاں اسی ضلع میں لڑیں گئیں، جن میں چیلیانوالہ اور گجرات کی لڑائی شامل ہیں۔ اور گجرات کی لڑائی جیتنے کے فورا بعد انگریزوں نے 22فروری 1849 کو پنجاب کی جیت کا اعلان کر دیا۔


قدیم تاریخ

امپیریل گزٹ آف انڈیا کے مطابق:

گجرات ایک قدیم علاقہ ہے جو کہ راجہ پورس کی ریاست کا حصہ تھا. راجہ پورس نے 326 قبل مسیح میں سکندر یونانی سے جنگ لڑی تھی۔ لیکن صرف چار سال بعد یہ علاقہ چندر گُپت موریہ کی ریاست کا حصہ بن گیا۔ اور یہ راجا اشوکا کی موت کے کچھ عرصہ بعد 231 قبل مسیح تک موریہ خاندان کے زیر حکومت رہا۔

تاہم، ہندوستان کے قدیم جغرافیہ کے مطابق گجرات کی بنیاد بچن پال کے نام سے ایک بادشاہ نے رکھی- تاہم اس کی بحالی علی خان نے نویں صدی عیسوی میں کی۔

لودہی مغل دور

گجرات ضلع مغل شہنشاہ اکبر کی طرف سے قائم کیا گیا تھا. اپنی یاداشت  میں شاہ جہانگیر گجرات پر مندرجہ ذیل معلومات درج کرتے ہیں.

"جب شہنشاہ اکبر کشمیر  گئے تو دریائے چناب کے کنارے پر ایک قلعہ بنایا گیا تھا. اکبر بادشاہ نے قرب و جوار میں بسنے والی گوجر قوم کو یہاں آباد کیا۔ اور یہ گوجروں کا ٹھکانہ بن گیا تھا، اکبر نے اسے علیحدہ ضلع بنا دیا اور اسے گجرات کا نام دیا. 
997 عیسوی میں، سلطان محمود غزنوی نے اپنے والد، سلطان سپکتگین کی طرف سے قائم غزنوی خاندان سلطنت پر قبضہ کر لیا، 1005 میں انہوں نے 1005 میں کابل کو فتح کیا اور بعد میں  پنجاب کو فتح کر لیا۔  دہلی سلطنت اور بعد میں مغل سلطنت نے اس علاقے پر حکومت کیا. غزنوی نے اپنے ساتھ اعلیٰ پائے کے علماء لیڈروں کو لے لیا جن کو قبضہ شدہ علاقوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کمانڈروں کے طور پر مقرر کیا گیا تھا. رانیوال سیداں کے میراں سید یحییٰ جو کہ غزنوی کے قریب ترمیز قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ کو قلعہ رانیوال میں موجود مسلمان جنگجوؤں کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ یہ قلعہ وقت کے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ ہزاروں لوگوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
 گجرات کی صحیح تاریخ لودہی دور سے شروع ہوتی ہے۔ جب پندرہویں صدی میں موجودہ شہر گجرات سے 37 کلو میٹر شمال مغرب  میں بہلول پور کی بنیاد رکھی گئی۔ خواص خان، شیر شاہ سوری کے تحت روہتاس کے گورنرنے گجرات کے قریب خواص پور کی بنیاد رکھی.  آمدنی کا ریکارڈ  رجسٹراروں (قانونگو) کے خاندانوں میں محفوظ کیا گیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ ضلع 2592 دیہات پر مشتمل تھا جس سے 11.6 ملین کی آمدنی ہوتی تھی. مغل اقتدار کے خاتمہ کے نزدیک، نادر شاہ نے گجرات ضلع پر قبضہ کیا تھا. اور یہ علاقہ احمد شاہ درانی کے حملے سے بھی متاثر ہوا تھا، جس کی فوجیں اکثریہاں سے گزرتی تھیں. مغل سلطنت کے خاتمے کے بعد، سکھوں نے گجرات پر حملہ کیا اور حکمرانی کی. 


برطانوی دور

1846 میں گجرات نے برطانوی سامراج کے ماتحت آ گیا. دو سال بعد یہاں بہت سی جھڑپیں ہوئیں جس نے سکھوں کی دوسری جنگ کا بھی فیصلہ کیا. اور یوں یہ علاقہ قیام پاکستان تک انگریزوں کے قبضے میں رہا۔


قلعہ گجرات

گجرات ریلوے سٹیشن کی ایک پرانی تصویر

تاریخی باقیات

ایسی کئی تاریخی عمارتیں اور باقیات کھنڈروں کی شکل میں گجرات کے آس پاس موجود ہیں۔ گرینڈ ٹرنک روڈ جسے "جی ٹی روڈ" بھی کہا جاتا ہے، شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی جو گجرات کے پاس سے گزرتی ہے، ابھی تک جوں کی توں موجود ہے- یہاں کے زیادہ تر لوگ جٹ، گُجر، آرائیں، راجپوت، کشمیری اور سید ہیں۔ قریبی قصبوں میں شادیوال، کالرہ کلاں، کنجاہ، ڈنگہ، کوٹلہ، کری شریف, کڑیانوالہ اورجلالپور جٹاں شامل ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.